میری بلاگ کی فہرست

29/03/2019

نا جنّت کی آرزو نہ دوزخ کا خوف

تنم فرسودہ جا پارا راضے حجرا"
یا رسل اللھ 
دیلم پشمردہ آوارہ راضے عصیاں   
"یا رسل اللھ


،عجیب سی خاموشی چھائی ہے
ہر چہرہ مایوس ہر صورت اداس نظر آتی ہے.
 کیا طوفان سے پہلے کی حقگوی نظر آتی ہے 


میری سانس ٹوٹ رہی ہے,
میرا جسم بکھر رہا ہے ریزہ ریزہ 
سیاہ دل ہے بداعمالیوں کا بوجھ ہے جسم,
چہرے پی نمایا ہے پشیمانی کے چنہ   
آنکھ ہے بوجھل فر بھی نا ہوں مایوس
امید ہے آخر پس  تیری چشم رحمت


ہر چہرے پی تاری ہے, حیبت ایک خوف
ہر سمت ہے وحشت
ہر نظر تلاش رہی ہےوہ مسیھا جو
کر دےبے خوف  دور کر دے دہشت


ہم تو جنّت کے بدلے جہنّم کا کر اے سودا
جنّت جسکی تھی اسکو دےاے سدا
تیرے نافرمانوں کی اب یہ ہی ہے سزا


دوزخ بھی رہی, بہت ہی نفے کا سودہ
پس والدین کے نا فرماؤں کی یہی ہے سزا 
دوزخ بھی تو ہوگی تیرے ہی فرمان پی عطا
عمر گزر گئی کرتے ہوے خطا
یہاں تو کر لیتا ہوں جلد عز جلد تیری اطاعت


فہرست جو دیکھی اپنے گناہوں کی
یوں احساس ہوا, دے دی جہنّم بھی تونے
بہت سستی عطا
گناہوں اورجہنّم کا فاصلہ تھا بہت بڑا
شکر ہے تیرا تونے اس گنہگار کو کسی کبل تو سمجھا 
 خواہ وہ جہنم ہی سہی اسمے بھی تو ہے تیری ہی رضا

تیری چشمے رحمت کا گر ہو جاتا غلام
تو نہ ہوتی مجھسے وس جہاں میں یہ خطا تاہم
اب تو کرنا ہے صرف تیری اطاعت 
بے پناہ خوش ہوں جہنم کو بھی پاکے
دوڈ لگادونگا فورن جہنّم کی جانب
     کہیں تھوڈی سی تاخیر بھی کر نہ دے مجھکو نہ فرمانو مے شامل 


ایک راض ہے دو نورانی اسک
 کبھی نمودار ہیں روشن کبھی تو ہیں غایب  

26/03/2019

اس کارگردگی کو کیا سمجھے یہ صحافی

عزیز نظریں
 وطنے عزیز میں جو خاموشی چھائی ہوی ہےہر چہرہ  مایوس ہر صورت اداس نظر آتی ہے.  اس خاموشی کو کیا سمجھا جائے طوفان اور  تباہی آنے سے پہلے کی خاموشی یا حالات سازگار ہونے کی پیشبندی ہےہر نظر اس مسیح کو تلاش رہی ہے جسکی جانب امید کی جا سکتی ہے, کے وہ اچّھے دن لے کر آےگا .

پیچھلے کچھ مہینوں سے یا یوں کہ لیجیے دسمبر ٢٠١٨ سے اس صحافی کے انگلش, اردو اور ہندی بلاگ کے مضمون میں کچھ خوسوسیاتی حصّے غایب کر دے گئے تھےاسی حساب سے فیس بک اور ٹویٹر سے کچھ خوسوسیاتی حصّے جون ٢٠١٤ کے بعد سے ہی غایب ہو گئے تھے. اس ذلیل حرکت کا سیدھا سیدھا تعلّق مودی انتظامیہ سے تھا.  کیونکے وہ  خوسوصیات کسی بھی مضمون کو مقبولیت فراہم کرنے مے سازگار تھے. اس صحافی کی تنقیدیہ مضامین اس موجودہ دورکی حکومت کے لئے ہوتے ہیں جو اقتدار مے ہوتی ہے . اور ٢٠١٤ سے صحافت اور  سوشل میڈیا مودی حکومت کے زیرے قیادت کام کر رہی ہے.   تو مودی انتظامیہ یہ کیسے برداشت کر لیتی کے اسکی اقلیتوں, دلیتوں, خواتینوں اور  عوام کی فلاح بہبوطی کی نسبت سے کی ہوی بدکاریوں بداعمالیوں  کا تذکرہ منظرے ام پی ہو. تو وہ  سبھی خوسوسیاتی حصّے اس صحافی کے بلاگ مضمون, ٹویٹر اور  فیس بک سے غایب  ہو گئے تھے، جسکی وجہ سے مودی انتظامیہ کا برہنہ  کاروبار عوام کے رو برو ہو جاتا تھا

لیکن آج صب یہ دیکھ کر بڑھی  حیرانی ہوی کی ایک خوصوسیات فر سے اس صحافی کے فیس بک  اکاؤنٹ پی نظر آ رہا ہے. اس ترققی سے کیا توققو کی جائے  کیا مودی انتظامیہ کا باجہ  بجنے والا ہے اور  نی حکومت کے آنے کا امکان ہے. کیونکے مودی انتظامیہ تو کوئی بھی سہولیت  ان صحافیوں کو ہرگز نہیں فراہم کریگی جو اسکے خلاف لکھتے ہیں.  حالات سازگار ہو رہے ہیں اور صحافت کو ازادادانہ ماحول دھیرے دھیرے فراہم ہو رہا ہے اسکی صرف اور صرف دو ہی ووجوھات اس صحافی کو سمجھ مے آتی ہیں. ایک مودی انتظامیہ اپنی پکڑ کمضور کر رہی ہے جسکی وجہ سے فیس بک جیسے علمی سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ نے انکی بات کو ماننے سے انکار کر دیا.  دوسری حکومت بدلنے والی ہے جسکی وجہ سے کوتاہی درستی اپنے آپ ہونا شورو ہو گئی ہے.  

 خیر وجہ چاہے کچھ بھی ہو اگرچے مودی انتظامیہ کو اب اپنی غفلت کا احساس ہو گیا اور وہ  صحافت کی آواز کو الا مقام پی پہچانے کا نیا عزم لیکر آئی  ہے یا حکومت بدلنے والی ہے دونوں ہی صورتوں مے خودمختار صحافیوں کے لئے خشخبر ہے اور لنگور لنگورنیوں کے لئے بورے دن آنے کا امکان ہے.

اس صحافی کی اردو جمع

  
English addition of this Journalist



हिंदी रसम अल खत उर्दू अलफ़ाज़

ہر بچہ کرے گا سوال، کیوں نہ کرے بغاوت؟

 عربوں کو بھیجی گئی چوڑیاں ہوں انہیں مبارک ملت کے ساتھ جنگ میں جو ہوئے نادارِد یہود و نصاریٰ کے آگے سجدہ ریز ہو گئے رہبر افضل ہوتا تم ہو جات...