تنم فرسودہ جا پارا راضے حجرا"
یا رسل اللھ
دیلم پشمردہ آوارہ راضے عصیاں
"یا رسل اللھ
،عجیب سی خاموشی چھائی ہے
ہر چہرہ مایوس ہر صورت اداس نظر آتی ہے.
کیا طوفان سے پہلے کی حقگوی نظر آتی ہے
میری سانس ٹوٹ رہی ہے,
میرا جسم بکھر رہا ہے ریزہ ریزہ
سیاہ دل ہے بداعمالیوں کا بوجھ ہے جسم,
چہرے پی نمایا ہے پشیمانی کے چنہ
آنکھ ہے بوجھل فر بھی نا ہوں مایوس
امید ہے آخر پس تیری چشم رحمت
ہر چہرے پی تاری ہے, حیبت ایک خوف
ہر سمت ہے وحشت
ہر نظر تلاش رہی ہےوہ مسیھا جو
کر دےبے خوف دور کر دے دہشت
ہم تو جنّت کے بدلے جہنّم کا کر اے سودا
جنّت جسکی تھی اسکو دےاے سدا
تیرے نافرمانوں کی اب یہ ہی ہے سزا
دوزخ بھی رہی, بہت ہی نفے کا سودہ
پس والدین کے نا فرماؤں کی یہی ہے سزا
دوزخ بھی تو ہوگی تیرے ہی فرمان پی عطا
عمر گزر گئی کرتے ہوے خطا
یہاں تو کر لیتا ہوں جلد عز جلد تیری اطاعت
فہرست جو دیکھی اپنے گناہوں کی
یوں احساس ہوا, دے دی جہنّم بھی تونے
بہت سستی عطا
گناہوں اورجہنّم کا فاصلہ تھا بہت بڑا
شکر ہے تیرا تونے اس گنہگار کو کسی کبل تو سمجھا
خواہ وہ جہنم ہی سہی اسمے بھی تو ہے تیری ہی رضا
تیری چشمے رحمت کا گر ہو جاتا غلام
تو نہ ہوتی مجھسے وس جہاں میں یہ خطا
تاہم
اب تو کرنا ہے صرف تیری اطاعت
بے پناہ خوش ہوں جہنم کو بھی پاکے
دوڈ لگادونگا فورن جہنّم کی جانب
کہیں تھوڈی سی تاخیر بھی کر نہ دے مجھکو نہ فرمانو مے شامل
ایک راض ہے دو نورانی اسک
کبھی نمودار ہیں روشن کبھی تو ہیں غایب