میری بلاگ کی فہرست

18/02/2020

میرے اشک تیرا عشق

میرے اشکوں کی محض 
تین سیرت      
تیرا عشق تیرا خوف اور انکی موحبّت 


تو ہی اوّل تو ہی آخر  
تجھی سے شروع تجھی پر ختم 
تو ہی ظاہر تو ہی باتیں 
تو ہی حاضر تو ہی ناظر 


مجھے کیا کرنا ہے جا کے کاشی کعبہ 
میں نے اس دل مے صنم کو بسا لیا 
جہاں دیکھا میرے صنم کو سر کو وہیں جھوکا لیا 


تیرے کوچے کو چھوڈ کر 
ہمنے ہر چوراہے ہر 
نککڈ  پر صنم کا گھر بنا لیا 
محبوب تھا جو کبھی میرے دل میں 
ہر گھر مے صنم کو پا لیا



ہے انتظار ہر دم تیرا 
دل میں بس گئی ہے وہ مورت 
تو چاہے کرے فراموش ہمکو 
ہمیں تو ہے ہر دم تیری چاہت 



تیرے عشق میں ڈوب کر 
کرتا ہوں جو سیاہ کاغذ
فنا فی شیخ کے فلسفے کو 
پورا کیا ہے اب.


تیرا انتظار ہی ہے اب میری عبادت 
تیرا دیدار ہی ہے اب میری ریاضت 
کتابوں کو دیکھنے سے کوئی عالم 
نہیں ہوتا 
الفاظ کی ادایگی سے کوئی 
فاضل نہیں ہوتا 
میرے صنم کے دیدار 
بغیر کوئی عاشق نہیں ہوتا 


تو ہے میرے ساتھ اس سفر میں بھی 
اس سفر میں بھی 
ملا دو مجھکو میرے صنم سے 
اس سفر میں بھی اس سفر میں بھی 


بیدرد زمانہ کیا جانے میری موحبّت کو 
گھایل کر دیا مارتے  ہو پتھر کیوں مجھکو 


ایک بار مل جانے دو 
میرے صنم سے مجھکو 
فر بتا دونگا ہوں میں کیا 
چیز تمکو 


قید کر سکوگے نہ تم مجھکو 
الفاظ میں نہ قلم کی سیاہے میں 
ہوا کا جھونکا ہوں میں 
اڈا کے لے جاونگا  تم سب کو 


عاشقوں کی بستی ہے یہ 
عشق والے یہاں رہتے 
 ہیں سبھی انکے حامی 
پس واحد پر یقین کرتے 


ہو گئی آج پوری منّت 
 تیرے نام پے  جی 
لوں میں تیرے نام پر مر  جاؤں 
تیرے نام پر فنا ہو جاؤں 
تیرے نام پر مٹ جاؤں 



کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

ہر بچہ کرے گا سوال، کیوں نہ کرے بغاوت؟

 عربوں کو بھیجی گئی چوڑیاں ہوں انہیں مبارک ملت کے ساتھ جنگ میں جو ہوئے نادارِد یہود و نصاریٰ کے آگے سجدہ ریز ہو گئے رہبر افضل ہوتا تم ہو جات...