میری بلاگ کی فہرست

23/09/2020

وہ کون تھی

   اجنبی کا ساتھ اجنبی احساس 

بیٹھی تھی میرے پاس پر کی نہ کوئی بات 

وہ مقامی انتظار وہ تیرا دیدار 

تیرے حسن پر کیا غزل لکھوں 

الفاظ نہیں اتنے میرے پاس 

پس خدا نے فلق سے بھیجا تھا 

 تجھکو میرے پاس  

باقی رہ گیا تیرا احساس 

اور تیری تلاش 

میری تنہایوں کا ساتھی ہے 

اب توصرف تیرا احساس

وہ تاریکیوں کی سرگوشی وہ اشکبار 

کبھی غلام تھے تیری موحبّت مے صنم  

پراب ہیں ہم آزاد 

میری لتفے زندگی کا ہے بس اتنا  

 احساس  

وہ تیرا پوشیدہ دخول

وہ تیرا ہجر یاد رہے 

    ایک پہیلی ہے

 ہے ایک آزمائش 

 تیرا آنا تیرا جانا 

...... اگے اور ہے 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

ہر بچہ کرے گا سوال، کیوں نہ کرے بغاوت؟

 عربوں کو بھیجی گئی چوڑیاں ہوں انہیں مبارک ملت کے ساتھ جنگ میں جو ہوئے نادارِد یہود و نصاریٰ کے آگے سجدہ ریز ہو گئے رہبر افضل ہوتا تم ہو جات...