کہتیں ہیں ہمکو غددارے وطن
انقلاب آ نہیں سکتا جب تک موجود ہے فتنہ ے امن
خاموش بوتوں کے سامنے اشکبار ہونے سے سیلاب نہیں آتا
جددو جہد کرے بغیرانقلاب نہیں آتا
گرہ لگانے اور کھولے سے تقدیرنہیں بدلتی
اب وہ فقیر کہاں جو عرش پی لکھے
مرتد کوکر دیتے تھے موحبّت
دلوں مے مشالے آزادی جلا کے رکھو یاروں
ہر زخم کا لینا ہے اب حساب تمکو
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں