عزیز ناظرین جس طرح
سے حکومتی ہند کی زیر قیادت مسلم عوام پی ظلم اور شدت کی جا رہی ہے، ان سب حالات
کو دیکھ کر صحافی کی شایری رنجیدہ , زخمی, خونم جھار ہے. مرکزی جیل تہاڈ میں ایک
مسلم قیدی کی پیٹھ پے جلتے
ہوے نیزے سے نا ذبحہ الفاظ 'اوم'
داغا گیا. اس صحافی نے اپنی ٢٠١٨ کو شاے کئے ہوۓ ایک مضمون مے جو بات کہی تھی اس
صحافی کی انقلاب کی کمزور آوازکو ایک دن فروغ ملیگا اور عوامی شخصیت، سیاسی رہنما
اور عوام کے ساتھ ساتھ یہ آواز ایک قوی موھم بن جاےگی. وہ بات ایک حد تک سہی ثابت
ہوتی نظر آ رہی ہے.
--- *** ---
ماشاء اللہٰ شروع ہو
گئی انقلاب کی جنگ
انقلاب کی اس جنگ میں
ہیں ہم آپ کے سنگ
آپ انقلاب کے پرچم
کے علمبردار نظر آتے ہو
ہمحے تو کوئی
چمچماتا ہوا چاند نظر آتے ہو
تم ہی سے ہوگا
انقلاب کی جنگ کا آغاز
ماشاء اللہٰ شروع ہو
گئی انقلاب کی جنگ
فاسق، فاجر، ظالم، ذلیل زانی, قاتل چاہے
کتنا بھی رہے مضبوط
اگر آپ میں ہے اتحاد
تو ہر دہشتگرد
آپکے ہوضور ہے سپورد
ہر ظالم آج پکڑا جاےگا
ہر ظالم پر ہے آج
ستم
ماشاء اللہٰ شروع ہو
گئی انقلاب کی جنگ
کب تک جیل کی ان چار
دیواری مے
نیزوں کی تپش برداشت
کریں ہم
کسی کو تو انقلاب کے
پرچم کو کرنا تھا بلند
کسی کو توانقلاب کی
اس پست آواز کو کرنا تھا بلند
ماشاء اللہٰ شروع ہو
گئی انقلاب کی جنگ
کسی کو تو نہ انصافی
کے اس خبیث کو کرنا تھا ختم
جنگے کربلا مے شیاطین کی مدد تھی کل جسکو
کر نہ سکا پانی سے
محروم اسکا نقشیقڈم آج ہمکو
تم سب ہو جاؤ فر آج
ایک سنگ
ماشاء اللہٰ شروع ہو
گئی انقلاب کی جنگ
قربانی دئے بغیرمرتبہ
بلند نہیں ہوتا
بغیر فکر ملّت
قوم کا نفع نہیں
ہوتا.
انقلاب کی جنگاری
سلگا دی ہے ہمنے
بغیر ہوا دئے یہ
شولا نہیں بنتا
آتشے نار سے اب جھلسیگا
اسکا بھی بدن
ماشاء اللہٰ شروع ہو
گئی انقلاب کی جنگ
صرف ایک تم ہی نہیں
تنہا انکے دشمن عازم
اسد، اکبر، ابو،
غلام، عبدللہا ، عمر،محبوبہ
اظہرلمبی ہے فہرست
جو ہیں انکے دشمن
انمے نہیں کوئی
ظالم، فاسک
فر بھی یہ کہلاتے ہیں غددارے وطن
ماشاء اللہٰ شروع ہو
گئی انقلاب کی جنگ
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں