جامے عاشقی ، لذّتے عاشقی
اس رات کی تاریکی
اور
اس سرغوشی کو کہ دوعبادت
میرے پرواز کی
ہیں پس دو ہی صورت
ایک تو ہے
دوجی مورت
میرا نہ کوئی حامی
تیرا نہ کوئی ثانی
اس فقر کو نواز کے
کردیا فقر نواز
یا غرب نواز
دامن کو بھر دیا
یا غریب نواز
چھوٹے نہ ہاتھ سے
وہ پاک در یا غریب نواز
یہ تمہارا ہی تو کرم ہے
خواجہ
فقیر کے در پر آتیں ہیں فقیر
منگتے کو کر دیا فقر نواز
دیکھے تیرے ہزار رنگ
جدا ہوا جسم سے انگ
ہر زررے کی صدا
لاالہٰ
ہر انگ کی صدا
الّلہا
ہر زررے میں تیری شان
ہر انگ میں
محبوبے سبحان
ہر ذرّہ ہے سبحان
بیان کرتا تیری شان
فنا ہوگا ہر خاقئی
باقی رہیگا صرف پاکی
فنا اور بقا کے
اس جھمیلے میں
جما ہونگے سب
فر میلہ میں
وہ میلہ دور نہیں
تیری نظروں سے اوجھل نہیں
تو ہوا نہ فانی
تو ہےمحبوب کا سبحانی
تو ہےمحبوب کا سبحانی
کر لیااپنے اغدے سانی
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں