نور اعلی نور
عزیز ناظرین , خاکسار کا آج کا کلام اس پاکیزہ ذات سے وابستہ
ہے جسکے قبضے قدرت میں میری جان ہے. اور جنابے
محمّد
مستعفیٰ
ﷺ کی شانے مبارک میں کصدہ ہے, کی کس طرح سے الله کا نور آپ ﷺ کی شکل میں دنیا میں تشریف لاے. پیرو طریقت اور اس در کا ذکر ہے
--- *** ---
جب کچھ نہ تھا، تب بھی نور تھا،
جب کچھ نہ ہوگا، تب بھی نور ہوگا،
تیرے نور سے جدا ہوا انکا نور،
فر تیرے نور سے مل گیا انکا
نور.
عرش پی نور ہے
فرش پی نور ہے،
ذرّ ذرّ نور ہے
نور کا تار ہے،
نور کا سار ہے،
نور کی آمد کا آج پہلا پہلا نور
ہے.
پاک بھی نور ہے،
آپ بھی نور ہیں
ہر سمت پس نور ہی نور ہے
آپکا جسم سراپا نور
آپکا جسم سراپا نور
آپکا دوست، روح ہے نور
امین جنکو کہتیں ہیں اہلے
زمین
انکا جسم سراپا خاک
نور سے خاک تک، خاق سے نور تک
سب ہے پاک
اس پاک ذات مے شامل صرف آپکی ذات
حسن بھی آپ ہیں، عشق بھی آپ ہیں،
جس طرف دیکھئے آپ ہی آپ ہیں
نور کی جیت ہے، خاق کی جیت ہے
اس در سے وابستہ ہر پاک کی جیت ہے
تو رب ہے سارے عالم کا
آپ ہیں رحمت سارے عالم کے
کیوں ہے اس در کی
شفققت صرف اہلے ہند کی
آپکا فیض جاری رہا ہر وقت
انکا در مہدوت ہوا صرف ہند تک
اسکی شدّت تھی ان پر بھی حاوی
اسکی شدّت تھی اس پر بھی حاوی
اس پاک زمین سے ہوے عاجز تم بھی
جس پاک زمین سے آتی ہے
موجیزے عرب کو خوشبو کی فضا
اس زمین سے ہوے تم کیوں خفہ
خدا تو ہے ہر شے کا سدا
رحمت آپکی دونوں علم کی ہوا
کیوں ہوے تم صرف ہند کے سدا
تیرے عشق مے گزارے ہیں جو دن اشکبار ہو کر
تیرا در چھوٹا ہوں بیزار تجھکو کھو
کر
یا رب اس نور کے صدقے
بے قرار قلب کو قرار دے دے
جو شفا دے اس زخم کو
ایسی دوا دے دے
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں