میری بلاگ کی فہرست

15/01/2020

شاہین نے بدل دی تیری تقدیر

 شاہین نے بدل دی تیری تقدیر 

تیرے ہاتھوں سے پھسل رہی ہے 
زمین ریت کے جیسے 
جب آیا ہے انسانی ھوجوم بہ کر 
اقیانوس کے جیسے 
تو بوجھنا چاہتا ہے وس  
شماے موحبّت کو ظالم
جس فانوس کی حفاظت ایک 
روحانی ہوا کرے 


غرقاب ہوگا تیرا ہر قلہ 
ڈھا  دی جاےگی ظالم کی لنکا 

ان سرد تاریکی میں 
جو بیٹھیں ہیں گرمجوش 
 پانے کواپنی بقہ  

ہر خاتون ہے آج افضل 
ہر معصوم ہے آج ہٹدھرم  

وہ حسین صورت  
سنگمرمر سی سفید مورت 
پاکیزہ آب سے ہوئی شفّاف سیرت  
ہے تیری سیفت چاہے مرد ہو یا عورت   
سب میں تیری صورت 


 جب سے لگا ہے دل تجھسے 
آنے لگا ہے زندگی کا مزہ 
میں نے بھی بدل دیا وقت اپنا 
کے ہو جائے سفر ادا 


 جنکو ہے جونوں نے آزادی  
مٹا نہ سکےگا تو انکی آبادی 
سبز ساحل ہو 
یا ہو سفید وادی 

تیرے جزباے حرریت 
کو اے  خاتون سلام 
بیحد سرد راتوں میں 
اس ٦ ماہے معصوم کے '
ساتھ ہے قطاروں میں دیتی پیغام  

ضعیف ارادوں پر قابض ہوے 
نوجوان 
ارادوں میں جنکے سختی ہے 
اور شفّاف ہے پیغام 


جو جنگاری سولگی تھے 
خشک سبزے میں کبھی 
شولا بن کر ڈرا رہی ہے آج 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

ہر بچہ کرے گا سوال، کیوں نہ کرے بغاوت؟

 عربوں کو بھیجی گئی چوڑیاں ہوں انہیں مبارک ملت کے ساتھ جنگ میں جو ہوئے نادارِد یہود و نصاریٰ کے آگے سجدہ ریز ہو گئے رہبر افضل ہوتا تم ہو جات...