شاہین نے بدل دی تیری تقدیر
تیرے ہاتھوں سے پھسل رہی ہے
زمین ریت کے جیسے
جب آیا ہے انسانی ھوجوم بہ کر
اقیانوس کے جیسے
تو بوجھنا چاہتا ہے وس
شماے موحبّت کو ظالم
جس فانوس کی حفاظت ایک
روحانی ہوا کرے
غرقاب
ہوگا تیرا ہر قلہ
ڈھا
دی جاےگی ظالم کی لنکا
ان سرد
تاریکی میں
جو
بیٹھیں ہیں گرمجوش
پانے کواپنی بقہ
ہر خاتون ہے آج افضل
ہر معصوم ہے آج ہٹدھرم
وہ حسین صورت
سنگمرمر سی سفید مورت
پاکیزہ آب سے ہوئی شفّاف سیرت
ہے
تیری سیفت چاہے مرد ہو یا عورت
سب میں
تیری صورت
جب سے لگا ہے دل تجھسے
آنے لگا ہے زندگی کا مزہ
میں نے بھی بدل دیا وقت اپنا
کے ہو جائے سفر ادا
جنکو ہے جونوں نے آزادی
مٹا نہ سکےگا تو انکی آبادی
سبز ساحل ہو
یا ہو سفید وادی
تیرے جزباے حرریت
کو اے خاتون سلام
تیرے جزباے حرریت
کو اے خاتون سلام
بیحد سرد راتوں میں
اس ٦ ماہے معصوم کے '
ساتھ ہے قطاروں میں دیتی پیغام
ضعیف ارادوں پر قابض ہوے
نوجوان
ارادوں میں جنکے سختی ہے
اور شفّاف ہے پیغام
جو جنگاری سولگی تھے
خشک سبزے میں کبھی
شولا بن کر ڈرا رہی ہے آج
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں