مجھے نفرت ہے تیرے وجود سے
مجھے بدبو آتی ہے تیری وحشت اور غرور سے
ظلم کرو تم یا کرو ناانصافی اہلےمسلم سے
اے خاکے وطن آپسے
ہمے تو موحبّت ہے پاک سے
افزایش دادن موحبّت کا دایرہ
دامنه عشق خود را افزایش دهید
رکھ لو خاکی پر قدم اگے کا
بڑھا لو دایرہ عشقے مومن کا
پوری ہو جائے دیدارے
غوث، حسین، مرتضیٰ علی
حسرت ہو میری بھی پوری
ریاست مدینہ والی
درے مستفہ ہے یہ
ہیں اولادے علی نسلے نبی
جو مانگنا ہے مانگ لے
اس در سے اے اکبر
یہ وہ در ہے جہاں آبرو نہیں جاتی
ہے ہمے عشق مراری کی تان سے
اور چندرلیکھا کے کامل امان سے
یا رب کر دے بیخوف انکی ریاض
پڑھ لیں کلمایے حق اپنی زبان سے
اٹھا لو ہاتھ کرو رخے مستفہ کی جانب
صحافی زبیر
تیری جستجو یاد رکھےگا زمانہ
ملیگا تجھے وہ سب، پر ہمہیں نہ بھونا
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں