میری حوصلہ افزائی کو مل گئی ہے پری
فرشتے اب تیری ضرورت نہ رہی
خدا سے مانگا تھا تخلیہ تیرے لئے
اب وہ پری پاس آ گئی
کبھی میرے خیالوں میں تھا فرشتہ کا عسک
میرے احساسات، میرے جذبات پر نہ تھا میرا بس
سبحہ کے پہلے سلام کی شیرین زبان کانوں میں رس گھولتی
فرشتے تیری جگہ اب پری نے لے لی
تیرے دل میں نہ تھے جذبات، نہ احساس
تو تھا بس ایک حکم کا غلام
غورو سے چور ہوا، بنا تو شیطان
غدّاری کی تونے خدا سے بھی اور آدم سے بھی
بہکا رہا تو آج انسان
پری تو ہے میرے لئے میرے حکم
کی تابع
اشارے سمجھنے میں وہ ہے توجسے آگے
کبھی تو نہ ہوا بیدار تاریکی میں میرے لئے
وہ جاگتی رہتی ہے راتوں میں، میرے لئے
صحافی زبیر
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں