میری بلاگ کی فہرست

27/06/2021

اُکَھڑْگیا برگد، پلٹ گیا تخت

یہ کیسی چلی آندھی ، ہر شے   اڑھ گئی 

بستیاں تمام اجڈ گئی، 


اُکَھڑْ گیا برگد، پلٹ گیا تخت




تو بدلہ  لینے والا بھی ہے تو غفور بھی 


فر تیری رحمت ہر شے پر غالب ہوئی 



یا رب ہم تو نہ تیرے ہوے نہ ماشوق کے ہوے 


تو بھی خفا، وہ بھی رہی خفا 




تجھے اپنے وادوں کا لحاظ نہیں 


مجھے اپنی قسموں کا احساس نہیں 


میں اپنے وجود کو بھول گیا، 


تو اپنے ہمسایے کو بھول گیا




تو ہرجائی ہو گیا، وہ بیوفا ہو گیا 


یا رب تو نہ چھوڑنا میرا ہاتھ، 


جب سارے سہارے کھو جاہیں 




میرا اندازے بیاں بتا دیتا ہے 


میرے قلعہ کا پتا، محفوظ ہے میرا قلعہ 


دشمن کی ہر ساجش ہے اسمے سزا 




تو ہی میری توحید کا مرکز 


تو ہی میری افزالول ہجرت 


جہاد کروں میں خود سے پہلے 


چاہے سامنے ہو دشمن 


صحافی زبیر  

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

ہر بچہ کرے گا سوال، کیوں نہ کرے بغاوت؟

 عربوں کو بھیجی گئی چوڑیاں ہوں انہیں مبارک ملت کے ساتھ جنگ میں جو ہوئے نادارِد یہود و نصاریٰ کے آگے سجدہ ریز ہو گئے رہبر افضل ہوتا تم ہو جات...