بڑھ گئی ہے طاقت تیرے لئے
٥ سال تک رہیگا تیرا غلبہ انکے لئے
٢٩ بھی آ کر چلا جاےگا
حق کا پرچم فر لہراییگا
دشمنکے ذلیل مضمون اسکا بگڑتا نہیں
چاند پر تھوکنے سے چاند گندا ہوتا نہیں
نبی کی دعا ہے اسکے لئے
لکھ دی ہے عزت خدا نے اسکے لئے
آ جایگیں دو مومن جب ساتھ میں
دوستی میں بدل جاےگی دشمنی
ہاتھ میں جب. ہاتھ ا ےگا
حق کا پرچم فر لہراییگا
فرشتوں کی آمد و رفت ہے اس تخت کے ارد گرد
جلوہ افروز ہیں جس پر میرے موحسن
آرزو نہ کرنا تو اسکی شکست کی
وہ ابن حیدر ہے قوت قررار کی
مومنوں کا ہاتھ میں جب ہاتھ آےگا
ابلیس بھاگیگا دشمن لرز جاےگا
حق کا پرچم فر لہراییگا
دشمن کرتا رہا شاجیشے اپنی
رب کرتا رہا حکمت اپنی
تیرا ہر فیصلہ پلٹ دیا جاےگا
حق کا پرچم فر لہراییگا
صحافی زبیر
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں