منصف نے ہی لوٹا
دشمن سے کیا گلا مجھے تو
خود منصف نے ہی
ہے لوٹا
دریا سے کیا گلا
مجھے خاک نے ہی لوٹا
جب
کشتی پہچی ساحل پی
مجھے تو تیری قلم سے نکلے الفاظ نے لوٹا
سزا کا مستحق ہوں
جو کیا قاتل پی بھروسہ
خود سے زیادہ اعتماد تھا
جسپے
وہ تو نکلا محض
تیری قلم سے نکلہ ہوا گندا بولبولا
نقب زنی کر کے
بنا لو اپنا آشیانہ
کہاں لے کر جاؤگے
اتنا سرمایہ
جب نہ ہوگا کوئی انے والا
میری زمین پی ہوگا
آج تیرا آشیانہ
کل جب یاد کروگے اسکو
فرنہ آنسو بہانہ
شدّت اورطاقت پی
کر بیٹھے تم یہ غلطی
سب کہیںگے ہم نہ اتے
یہاں اب ہمیں نہ بولنا
صحافی زبیر
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں