پاکستان میرا، میں پاکستانی
نہ سمجھو مجھکو ہندوستانی
چھوٹے چاہے اب تیرا در
یا بند ہو دانہ پانی
پر ٹوٹے نہ
وہ زرشتہ
جو ہے تمسے پاکستانی
شیطان کا بھی ہے احسان
جسنے بنا دیا مجھکو انسان
گر نہ ہوتا شیطان حاوی مجھ پر
نہ ہوتا قادر تو مجھ پر
خلد سے آدم کا ہونا خارج
تھی ایک سزا
دیا کفّارا ہوے جدا
جو خطا
ہے میری
سزا کا کفّارہ ہوں مے
فنا
عالمے بیخودی میں ہم
تمھیں اپنا کہ گئے
شکریہ دوست تم بھی سہ گئے
طفل مکتب ہوں
یا رب
عطا کر وہ چشمے
بینائ
الم حکمت اور دلیل میں
نہ ہو جسکا کوئی ثانی
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں