میری بلاگ کی فہرست

25/10/2020

تلاش یار

 خفا ہوے ثلاثة یار 

ترک کیا کلام 

تینوں جانب سے ہوا بند 

 

وہ غروب ہوتا  آفتاب 

ہوی ترک نمازے شام 

اور ڈھلتا ہوا دن

 

  ہوشوالوں سے نہ پوچھو ظاہر اور باطن  کا حال

ظاہری کیفیت پر ہوے جو بدگمان 

باتین کی حالت دیکھ ہوے پشیمان 

ایسے ہوش والوں سے تو بہتر ہے رہے  بیہوش جہان 

 

یا رب تو کیسا ہوگا 

تیرے محبوب پر رحمت اور موحبّت کو دیکھ 

گمان ہوتا ہے  مادرے مومین جیسا ہوگا 

تیرے نہ فرمانوں پر 

تیرا جللال ور غضب دیکھ کر 

گمان یہ ہوتا ہے تو ایک 

روشن چراغ جیسا ہوگا 

 

تو اپر سے فولاد جیسا سخت  

اور اندر سے نرم مخملی احساس جیسا ہوگا 

تری کیفیت  بھی نقطے کی اونچ نیچ 

کی طرح جدا ہے 

صالح پر خوش اور نہ فرمان سے خفا ہوگا 

 


ےکاتب تقدیرمجھکو بھی خوش نویس دے دے 

ڈوبے جو نا کبھی ایسا سفینہ دے دے

 

ہجوم دنیا دیکھتی گئی کرامت مرشد 

ہمیں تو  موقع ہی نہ ملا کی رہیں انکی صحبت 

تاکتے ہی رہے رخسارے یار 

اور کرتے ہی رہ گئے موقع کا انتظار 

 

وقت نے جو پکڑی رفتار 

جو ملی تھی مختصر وقفا یہ زندگی 

اس میں ہی بنا عشق اور پا لیا پیار 

 

ہجر کی اذیت تجھے بھی ہے مجھے بھی 

جدائی کا غم تجھے بھی ہے مجھے بھی 

مجبور ہوے حالات سے ہم دونوں 

اس قدر دور رہنے میں بھلائی تجھے بھی ہے مجھے بھی 

 

معشوق نے کیا ترک کلام 

کیا ہماری کسی گستاخی پر ہیں آپ خفا 

خدارا جان لے لیگی  تمہاری بےرخی  

اب تو چلے او کے جان پر بن آئی ہے 

  

تمہارا ایک عدد نام ہی تھا دامن میں 

وہ بھی چھین لیا قیدخانے میں ظالموں نے 

تیرے نام کی نسبت مٹانا چاہتے تھے ظالم 

بےخبر، نادان تھے وہ 

تیری روح کے ساتھ نسبت جوڑ  گئی 

تھی ہماری تاہم   


صحافی زبیر

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

ہر بچہ کرے گا سوال، کیوں نہ کرے بغاوت؟

 عربوں کو بھیجی گئی چوڑیاں ہوں انہیں مبارک ملت کے ساتھ جنگ میں جو ہوئے نادارِد یہود و نصاریٰ کے آگے سجدہ ریز ہو گئے رہبر افضل ہوتا تم ہو جات...