خفا
ہوے ثلاثة یار
ترک کیا
کلام
تینوں جانب
سے ہوا بند
وہ غروب ہوتا آفتاب
ہوی ترک
نمازے شام
اور ڈھلتا ہوا دن
ہوشوالوں سے نہ پوچھو ظاہر اور باطن کا حال
ظاہری کیفیت
پر ہوے جو بدگمان
باتین کی حالت دیکھ
ہوے پشیمان
ایسے ہوش
والوں سے تو بہتر ہے رہے بیہوش جہان
یا رب تو
کیسا ہوگا
تیرے محبوب
پر رحمت اور موحبّت کو دیکھ
گمان ہوتا
ہے مادرے مومین جیسا ہوگا
تیرے نہ
فرمانوں پر
تیرا جللال
ور غضب دیکھ کر
گمان یہ
ہوتا ہے تو ایک
روشن چراغ جیسا ہوگا
تو اپر سے فولاد جیسا سخت
اور اندر
سے نرم مخملی احساس جیسا
ہوگا
تری کیفیت بھی نقطے کی اونچ نیچ
کی طرح
جدا ہے
صالح پر
خوش اور نہ فرمان سے خفا ہوگا
ےکاتب
تقدیرمجھکو بھی خوش نویس دے دے
ڈوبے جو
نا کبھی ایسا سفینہ دے دے
ہجوم دنیا
دیکھتی گئی کرامت مرشد
ہمیں تو
موقع ہی نہ ملا کی رہیں انکی صحبت
تاکتے ہی
رہے رخسارے یار
اور کرتے
ہی رہ گئے موقع کا انتظار
وقت نے جو
پکڑی رفتار
جو ملی
تھی مختصر وقفا یہ زندگی
اس میں ہی
بنا عشق اور پا لیا پیار
ہجر کی
اذیت تجھے بھی ہے مجھے بھی
جدائی کا
غم تجھے بھی ہے مجھے بھی
مجبور ہوے
حالات سے ہم دونوں
اس قدر
دور رہنے میں بھلائی تجھے بھی ہے مجھے بھی
معشوق نے
کیا ترک کلام
کیا ہماری کسی گستاخی پر ہیں آپ خفا
خدارا جان
لے لیگی تمہاری بےرخی
اب
تو چلے او کے جان پر بن آئی ہے
تمہارا
ایک عدد نام ہی تھا دامن میں
وہ بھی
چھین لیا قیدخانے میں ظالموں نے
تیرے نام
کی نسبت مٹانا چاہتے تھے ظالم
بےخبر،
نادان تھے وہ
تیری روح
کے ساتھ نسبت جوڑ گئی
تھی ہماری
تاہم
صحافی زبیر
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں