ناظرین آج کی نظم صحافی کی٢ اکتوبر ٢٠٢٠ کو لکھی گئی ہندی
کلام
हर घर
अफ़ज़ल,
घर घर मक़बूल کا اردو ترجمان
ہیں
زاید دو اشعار کے ساتھ
گھر فتہ، بستی فتہ ہوی تمہارے ماتحت زمین
ہوے شہر صوبے فتہ اور عوام تمہارے ادھین
صحرا سے بھر تک تاج ہوا تمہارا نمازے سحرتک
مسجدیں ہوی آباد، ہوی اقصیٰ آزاد
ہوے سب تمہارے مرید
ذولفقار
ہے جب تمہارے ہاتھ
اہلے عرب
ہو گئے یہود کے ساتھ
تم ہو جاؤ
٣١٣ والے ہاتھ
چاہو نہ
کسی اور کا ساتھ
ذولفقار
کو اٹھا لو ہاتھوں ہاتھ
اہلے امان
ہو، حاکم ہو
پر نہیں
پختہ امان،
جب جب پست
ہو قوت،
اور ہو
حاوی شیطان
چاہے مچاے ہمسایے جب دہشت
عمل کرو فاروقی خلافت
امر کے عدل میں عوام تلاشے تمکو
اللہٰ ہو اکبر سے لازرے سنا یہ
دشمن
نعرے میں جگاؤ ابتدائی مرحلے کی
اس
فر کوئی نہ آ سکےگا تمہارے اس پاس
معاہدہ کرو پکّ،
وعدہ کرو سچچا
غلام ہو یا آقا
کرو عمل پیدا امر کی طرح حق کا
گر چاہتے ہو فاتح وطنے یہودی
کرو پیروی امر اور ایوبی
ہمیں نہیں ہے وطن سے موحبّت
نہ کہنا
ہمیں ہندوستانی
پہلے آتا
ہے مذہب چاہے کہ دو
ہمیں مسلم یا پاکستانی
(٨.١٠.٢٠٢٠ کو ان ٢ اشعار کی اضافت کے ساتھ )
کھلے گی چھتری ہماری یہاں پر
گر کروگے بدگمانی تم وہاں پر
کسی عرب کی ایجاد ہے جدید اسلام
کی اسنے بھی دینے الہی والی بات
تم بن جاؤ ٣١٣ والے ابتدائی
مسلمان
کر لو اپنا کابل امان
ناداں ہے، وہ ہو گیا موجودہ دور کا جدید غلام
جدیدیوں میں کہاں اتنی قوت
کے کرے پست قدیمیوں کی ہمّت
پوشیدہ کر
دی اور مٹا دی جسنے
الله اور
ہاشمی نشانی
وہ کیا
چلیگا رسولے عربی کے ساتھ
جنکو ہے ملادے نبی سے بو باس
صفا مروہ کی گواہ ہے قرانے
آسمانی
پسوشدہ کر دی یہ کسنے اللہ کی
نشانی
اور مٹا دی محمّد کی نشانی
صحافی زبیر
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں