عشق کیا کرو گر چاہتے ہو
جام عاشقی
عشق والوں کی ہی کسمت میں
ہے ان اوقات وقت کی موسیقی
جسے تجھسےعشق نہیں
ان اوقاتے وقت کو
بنا لو اپنا فلسفہ ے ورزش
جب بلاے تمہیں مولا، ولی یا عابد
ورزش کیا کرو کے آ جائے تمہارے اندر
روحانی، جسمانی، ذہنی قوت
ہےمقابل تمہارے وقت
کے بدترین حاکم
جو ہیں نہایت ہی ظالم، اور ثابت نہ ہوے عادل
تجھسے میرے قورب اور عشق
کی بس تین صورت
تیری چاہت میں موسیقی پر
کبھی رقص کبھی ورزش
اسکی چاہت میں جمع دولت کی گردش
بعداس اجل ملیگی پرواز یا پستی
صورتے پہلی میں آپکون ہیں آ جائے اپر
جسکو دیکھے واحد
دوجی میں آ گئے ہم نیچے نہ دیکھے کوئی
تیجی میں چلے دونو اپربنے ہمسایے
دیکھے زمانہ
تیرے عشق میں ہم سنورنے لگے ہیں
بس یہ ہی دعاہے تجھسے یا رب
جب سر پر کھڑی ھو آ کے اجل
بس یہی کہتے ہوے دم جائے نکل
حق لا إله إلا الله
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں