الہی تیری ایک شمشیر ہے
جو سر پر سبکے لٹکی ہے
ہر شخص ایسا نہیں ہے
جب صفت بیان کی انسان کی
اسمے آدم اور شیطان بھی ہے
سڑکوں کی زینت بن گئی نبی کی عظمت
پاک کلام سر ا بازارگایا جا رہا ہے
ختم ہوی اسکی حرمت
جس نبی کی حرمت اور
رب ا ذلجلال سے پست ہوی
جبرائیل کی قووت
اس نبی کا کلام پڑھا جا رہا ہے
دنیاوی محفلوں مے پانے کو شوہرت
روحانی محفل میں پڑھ نے پر کم
نہیں ہوتی عظمت
اورنگزیب جب تک حیات تھے غلام تھا ہند
وصال کے بعد بھی ڈرا رہا اسم ا عالمگیر
جس نماز کے لئے چھوڑ دی تھی دنیاں
دنیاں بنانے کو چھوڑ دی نماز
جہاں تو سنور گیا آخرت بیگار دی
ہر چیز کا حق ہے تم پر لازم
دنیاں اور آخرت پر کیا درس دے رہا قرآن
ایک دو دن دینے سے افضل ہے
ہر روز دو ازاں
صحافی زبیر
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں