اب دری نہیں بچھا یگن
اب کرسی نہیں لگاےگن
جو ہمارا حق ہے اسے
حلق سے کھیچ کے لاےگن
سیاست شاعروں کا کھل نہیں ہے
سیاست میں تیرا کوئی مول نہیں ہے
جنکے گھر کی لونڈی ہے سیاست
انکو شاعروں سے کوئی خوف نہیں ہے
اپا جان نے دے دیا درس پورانہ
حکومت انسے نہ ہوگی انکو نہ انے دینا
عوام نے پہلے سے ہی تھا ٹھانا
ہماری آپا آپکی سپا ہمارے جممن
آپکے بھائی کو مزہ چکھنا
جسنے کیا رانا پر اعتراض
تلوار باز پر کی خاموشی اختیار
یہ ہی ہے جممن کا کردار
اپنوں سے خفا غیروں سے جفا
یہ ہی ہے جممن کا کردار
تیری سیاست سے ہقتلفی کی بو ہے آتی
ہماری قیادت نہ ہو قوی اسکے
لئے کی تھی قوایت ساری
تو کرتا رہا سیاسی محفلوںمیں باتیں فریبی
میں نے خدا پر یقین کی ڈور تھی باندھی
شاعر کے دم پر تونے کی تھی
جنگ کی تییاری
جسے پتا ہی نہیں کیا ہوتی ہے
سیاست کیا ہوتی ہے عَیّاری
رانا کے ٹکٹ پر جسنے کی مکّاری
صحافی زبیر
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں