تو میرا لباس ہے
میں تیرا لباس ہوں
میں تجھسے واقف ہوں
تو مجھسے واقف ہے
تیری موحبّت کیا ہے
قربانی کا جذبہ ہے
میری موحبّت کیا ہے
کفالت تیری مجھ پر واجب ہے
تیرا فلسفہ رب پر یقین
کو کمزور نہ کر سکا
میرا امان تیری رحمت پر مزید پختہ ہو گیا
تیری رحمت نے ہی نطفے کو عالمگیر بنا دیا
ایک ذرے کو آفتاب
ایک دھماکے سے ہوے کئی مددے خاموش
ایک جھوٹی ساجش سے ہوے کئی بیدار
سیاست ہے یہی ہم نہیں اسکے زممدار
سیاست ہو یا صحافت لگے
ہیں کرنے ہمارا قتل کردار
ان ظالموں کو کیا معلوم
خاموش ہو کر ہمنے اپنا کردار بچایا ہے
ایک تیر سے خاموش ہوے ١٠٠٠ سوال
ایک تیر سے ہوے کئی بدحال
یہ ہے سیاست کی گہری چال
صحافی زبیر
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں