تیرے عشق میں ضروری نہیں
کے ہوں جسمانی کلام
میرے جذبات معشوق کے دربار
ہوے قوبول
میری صوت پہنچ گئی
معشوق کے پاس
اسکی صداہیں آ گئی کانوں
میں حق کے ساتھ
تین مددوں پر معشوق
سے لے لیا احد
پہلا کر دیا تیرے حوالے
دوسرے پر کھلا اقرار
تیسرے پر جواب کا ہوں منتظر
تیرے عشق میں بھی عجیب مزہ ہے
پرواز ہے جسکی پستی سے بالاتر
اثر ہوتا ہے جسکا قلب پر
اقرار کرتی ہے زبان خومار ہوتا ہے ذہین پر
ورجش کرتا ہے بدن
عشق میں الفاظ جو اتر گئے
دل میں معشوق کی
فر ہم کہاں سنتیں ہیں بات
شیطان کی
تیری رہنمائی، اور
معشوق کے جواب کا ہوں منتظر
تلاشتہ رہتا ہوں اس کتاب میں ہر دم
صحافی زبیر
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں