تیری موجودگی کا احساس دلاتی ہیں تیری یادیں
ہر ذرّے میں تیرے موجود ہونے کا احساس دلاتی ہیں تیری یادیں۔
تو ہو گیا بےوفا، میرے ساتھ وفا نبھاتی ہیں تیری یادیں۔
بہت مشکل ہے محبت کا سفر،
تو نے وفا نہ کی، ہر روز ہم کو وفا کا سبق
سکھاتی ہیں تیری یادیں۔
جدائی نہ تھی مقدر میں ہمارے، ہم مشیتِ خداوندی پر
سرِ تسلیم خم ہو گئے۔
تیری یادیں خدا کی منکر ہو کر ہر جگہ چلی آتی ہیں۔
کب تک بناتے غمِ ہجر کا ماتم،
صبحِ قیامت تک رہے گا جشنِ وصل کا تاہم،
اب تو تا عمر رہے گا ہم پر تیرے ہجر کا غم۔
اب تو کسی سے وفا کی امید ہی نہیں،
تیری زندگی نے وفا نہ کی، تیری یادیں وفادار رہیں۔
تو نے سب کچھ سکھایا ہم کو،
تیری یادوں کو بےوفا ہونا نہ سکھایا ان کو۔
صحافی زبیر
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں