کہانیوں قصّوں میں ذکر نظموں کا میرا مل جاتا ہے
ہر قصّے میں بس تو ہی بہت رحمان و رحیم نظر آتا ہے
میری آرزو ہر ہوتی گئی پوری، جو مانگا تُو دیتا چلا جاتا ہے
لوگوں نے تجھے تیرے گناہوں کے سبب چھوڑ دیا
میرے رب نے باوجود تیرے گناہوں کے تیرا دامن نہ چھوڑا
تجھے تیرے پوشیدہ گناہ بھی یاد نہیں
رب نے تیری پوشیدہ فَریاد بھی سنی، تجھے معاف کیا
جب تُو نے اُسے تنہائی میں پکارا کہ گناہوں سے توبہ
میرے رب نے تیرے لیے نبی کو بھیج دیا
وطن پرستی کی دیمک چاٹ گئی تیرے ایمان کو
ڈاکا ڈالا گیا جب ملت کے مال پر
وطن پرستی حاوی رہی سرحد میں اضافے کی بات پر
صحافی زبیر
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں