تیری وطن پرستی ایک دکھاوا ہے
ملت کے اوپر آفت ہے
تیری وطن پرستی ایک ڈھونگ ہے، چھلاوا ہے
بیچ دیا ہند سارا ہے
ہم پاک کی نہیں کرتے بات، بٹوارے کے ہم بھی نہیں ساتھ
اب تو اضافے کی ہے بات، وطن کا کہاں ہو رہا خانہ خراب
جب کوئی نہیں دینے آیا ساتھ، کیا کرو گے رہ کر ان کے ساتھ
کوئی کہتا ختم کر دو، نسل مٹا دو
کوئی کہتا کرو پریشان
کہیں حقہ پانی بند، کہیں نہیں دے رہے روزگار
ایسے ماحول میں کیا تمہیں لگتا ہے وطن پرستی آئے گی کام؟
وہ چاہتے ہیں مسلمان رہے بن کر غلام
ایسی وطن پرستی کی نہیں حاجت ہم کو
جو آ نہ سکی ملت کے کام
بچا نہیں سکتا تو اپنے وطن کو مشیتِ خدابندی کے آگے
ایسا ہی ظلم، ناانصافی اور خدا کے لیے
ابو جہل، ابو لہب کا تھا تَصَوُّر
اس ظلم کو سہنے کے بدلے آج سعودی ہے
عالمِ اسلام میں سب سے آگے
صحافی زبیر
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں