بہت دیر کر دی نوجوانوں جاگنے میں
اب بات آ گئی ہے بٹوارے میں
ہر زخم کھول کے دکھائیں ہم
بات ہوئی پرانی پر اب کہاں جائیں ہم اس جہاں میں
اسی گنگا جمنی تہذیب کی جب میں کرتا تھا بات
لنگوروں کی برادری اچک کر آتے
اکثریت جماعت مذاق اڑاتے
آپ کے جذبے کی قدر کرتا ہوں، آپ کے حوصلے کو سلام
پر بات نکل گئی ہے بہت آگے
کیا لوٹا سکتے ہو ہمارے اچھے دن
ہمارے شہید کیے گئے نوجوان
ہمارا روزگار کیا برباد، توڑ دیے ہمارے مکان
پولیس کی گولی چلی ہم پر، قتل کیا ہم کو
کہیں پوچھ کر ہمارا نام، کہیں پوچھ کر ہمارا ایمان
کہیں نعرہ نہیں لگایا تو ہو گئے ہم بے ایمان
وطن سے تھا ہمارا واسطہ، پر کیوں لگائیں ہم نعرہ
وطن سے محبت ثابت کرنے کو کیا یہی ہے ایک چارہ
تم چلو اپنے مذہب پر، ہم اپنے مذہب پر
پر کیا بھارت میں رہنے پر لگانا ہوگا جے ایس آر کا نعرہ
تم کرو ماتا کی وندنا
کیا ہندوستان میں رہنے پر لگانا ہوگ
ہمیں بھی ماتا کا نعرہ ..........
ہماری بربادی پر اچھے لوگ خاموش رہے
تبھی تو سب ہندو مسلم سماج بٹ گئے
تم آج آئے ہماری حفاظت میں
گر آتے ۲۰۱۴ کے بعد تو نہیں بنٹتا ہندوستان
صحافی زبیر
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں